نئی دہلی،27/اگست (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) محکمہ انکم ٹیکس نے ہریانہ کے کانگریسی لیڈر کلدیپ بشنوئی اور ان کے بھائی کے گڑگاؤں واقع ایک ہوٹل کو’گمنام‘ جائیداد کے طور پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ ایک مہنگے کاروباری علاقے میں ہے اور اس کی قیمت 150 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔ سینئر افسران نے منگل کو یہ معلومات دی۔حکام کے یہ کارروائی گمنام اسٹیٹ کے لین دین (ممنوع) ایکٹ 1988 کی دفعہ 24 (3) کے تحت کی گئی ہے۔حکم نامہ کے مطابق ضبط کی گئی جائیداد برائٹ اسٹار ہوٹل پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام ہے۔محکمہ نے ٹیکس چوری کے الزام میں تحقیقات کے سلسلے میں 23 جولائی کو ہریانہ، دہلی اور ہماچل پردیش میں بشنوئی سے منسلک 13 ٹھکانوں پر چھاپے مارے تھے۔انکم ٹیکس ذرائع کے بتایا کہ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ضبط کی گئی کمپنی میں 34 فیصد شیئر ایک ’دکھاوے کی‘ کمپنی کے نام ہے جو ٹیکس چوروں کی پناہ گاہ مانے جانے والے غیر ملکی علاقے ’برطانوی ورجن جزائر‘ میں رجسٹرڈ ہے اور اس کا آپریشنل متحدہ عرب امارات سے ہو رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل کا مالکانہ حق رکھنے والی کمپنی اور اس کی ملکیت ہوٹل کی غیر منقول جائیدادیں کلدیپ بشنوئی اور چندر موہن (بشنوئی کے بھائی) کی گمنام املاک ہیں۔ گمنام پراپرٹی انہیں کہا جاتا ہے جس کا حقیقی مستفید وہ نہیں ہوتا جس کے نام پر وہ رجسٹرڈ ہوتی ہے۔دونوں بھائی ہریانہ کے سابق وزیر اعلی آنجہانی لیڈر بھجن لال کے بیٹے ہیں۔بشنوئی آدم پور اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ممبر اسمبلی ہیں۔جبکہ موہن ریاست کے سابق نائب وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ہوٹل پرائیویٹ لمیٹڈ میں گمنام شیئردارک بشنوئی خاندان کے انتہائی قریب ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمپنی پر کنٹرول بشنوئی کے پاس ہے اور ہوٹل پرائیویٹ لمیٹڈ شیئر خریدنے کے لئے پیسے کاانتظام بھی بشنوئی نے کیا۔ محکمہ نے اپنے حکم میں الزام لگایا ہے کہ اصل طور پر کمپنی کی آپریشنل بشنوئی بندھو اپنے ملک اور بیرون ملک کے شراکت داروں کے ساتھ مل کرکر رہے ہیں۔چھاپے کے بعد محکمہ انکم ٹیکس نے سرکاری بیان میں کہا تھا کہ بشنوئی اور اس کے خاندان سے منسلک 200 کروڑ روپے سے زیادہ کی غیر ملکی جائیداد اس کی جانچ کے دائرے میں ہے۔ گمنام پراپرٹی قانون 1988 میں بن کر تیار ہو گیا تھا لیکن یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے نومبر 2016 میں نافذکیا۔